49

حضرت عمرؓ کی اپنے گورنر کے نام ایک سبق آموز تحریر

آذر بائیجان سنٹرل ایشیا کا انتہائی خوبصورت تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے اور اس کے شہری اسلامی دنیا کے دوسرے شہریوں کے مقابلے میں انتہائی خوش حال ہیں‘ یہ ملک حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں فتح ہوا تھا‘ حضرت عمرؓ نے عتبہ بن فرقد کو اس کا گورنر بنا کر بھجوایا‘ یہ پرہیز گار‘

ایماندار اور پڑھے لکھے انسان تھےیہ آذر بائیجان پہنچے تو شہر کے لوگوں نے ان کی دعوت کی‘ دعوت میں کھجور اور گھی سے تیار کردہ آذری حلوہ بھی شامل تھا‘ یہ حلوہ آج بھی آذر بائیجان میں تیار ہوتا ہے اور لوگ اسے آج بھی بطور سویٹ ڈش استعمال کرتے ہیں‘

آذر بائیجان کے پہلے مسلم گورنر نے یہ سویٹ ڈش چکھی تو وہ اپنا ہاتھ نہ روک سکے‘ وہ سارا پیالہ کھا گئے. حلوہ کھانے کے بعد ان کے دماغ ان کے دماغ میں آیا میں اگر یہ سویٹ ڈش امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کو بھجوا دوں تو آپ خوش ہو جائیں گے‘ گورنر عتبہ نے آذری حلوہ تیار کروایا‘

دو ٹوکرے بنوائے اور مدینہ منورہ بھجوا دیئے‘ گورنر کا یہ تحفہ حضرت عمرؓ کے سامنے رکھا گیا‘ آپ نے ٹوکرے کھولے‘ حلوے کا ایک ٹکڑا اٹھا کر چکھا اور اس کے بعد لانے والوں سے پوچھا ’’ یہ کیا ہے؟‘‘ گورنر کے ماتحتوں نے جواب دیا ’’ یہ آذر بائیجان کا روایتی حلوہ ہے اور گورنر نے بطور خاص آپ کیلئے بھجوایا ہے‘‘

حضرت عمرؓ نے پوچھا ’’ کیا آذر بائیجان کے تمام لوگ یہی خوراک کھاتے ہیں‘‘ ماتحتوں نے جواب دیا ’’ جی نہیں‘ یہ صرف امراء کو نصیب ہوتا ہے‘‘ آپ نے کاغذ منگوایا‘ دو فقرے لکھے اور وہ رقعہ حلوے کے ساتھ آذر بائیجان واپس بھجوا دیا‘ حضرت عمرؓ نے لکھا ’’ عتبہ کیا یہ تمہارے والدین کا مال ہے‘ اگر تم مسلمانوں کے امیر ہو تو تمہیں صرف اور صرف وہ خوراک کھانی چاہیے جو وہاں کے عام لوگوں کو میسر ہے‘‘.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں